مرے دانتوں کی عمر اے آرزو مجھ سے بھی چھوٹی تھی

شاد عظیم آبادی

مرے دانتوں کی عمر اے آرزو مجھ سے بھی چھوٹی تھی

شاد عظیم آبادی

MORE BYشاد عظیم آبادی

    مرے دانتوں کی عمر اے آرزو مجھ سے بھی چھوٹی تھی

    اسی نے ساتھ چھوڑا دانت کاٹی جن سے روٹی تھی

    شکایت آرزو کی بے کئے ناصح نہیں بنتی

    یہ سب دل جوئیاں ظاہر کی تھی باطن کی کھوٹی تھی

    ہوا در در لیے پھرتی ہے اب تو میری مٹی کو

    یہ ہے وہ خاک جو اک دن ترے قدموں پہ لوٹی تھی

    بہت گہرے نہ ہوں اوچھے سہی چرکے تو پورے ہیں

    خطا قاتل کی کیا ہے اک درا تلوار چھوٹی تھی

    پہاڑ اس پر گرا اے آسماں کیا بس چلے ورنہ

    ہمارے آشیاں کی شاخ سب شاخوں سے موٹی تھی

    بلا کر تو نے اے ہستی یہاں کی خوب مہمانی

    وہی کرتے ہیں فاقے جن کے دم سے دس کی روٹی تھی

    پہنچ جاتی تھی اس اس گھر میں جس جس گھر کا پاسا تھا

    جو سچ پوچھو تو میری آرزو چوسر کی گوٹی تھی

    نہ کیوں کر تیری یکتائی کا کلمہ نقش ہو دل پر

    سبق کی طرح برسوں یہ عبارت ہم نے گھوٹی تھی

    مجھے خوش خوش جو پایا جل کے کیا جلدی ہوئی رخصت

    شب وصل اے فلک سب کچھ سہی نیت کی چھوٹی تھی

    یہ سچ ہے شادؔ کیا تھا کچھ نہ تھا لیکن تمہارا تھا

    نہ سمجھا تم نے اے باریک بینو بات موٹی تھی

    مآخذ
    • کتاب : Dewan-e-shad Azimabadi (Pg. 344)
    • Author : Shad Azimabadi
    • مطبع : Educational Publishing House (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY