مرے دونو جہاں تم شاد کرتی ہو

ستیش دوبے ستیارتھ

مرے دونو جہاں تم شاد کرتی ہو

ستیش دوبے ستیارتھ

MORE BYستیش دوبے ستیارتھ

    مرے دونو جہاں تم شاد کرتی ہو

    یوں اپنی زلف جب آزاد کرتی ہو

    حیا سے جب جھکاتی ہو نظر اپنی

    ہزاروں خواہشیں آباد کرتی ہو

    شجر غم زاد ہے اک میرے آنگن میں

    اسے تم مسکرا کر شاد کرتی ہو

    ستانے اور پھر مجھ کو منانے کے

    طریقے تم نئے ایجاد کرتی ہو

    تمہیں میں بھیڑ میں بھی یاد کرتا ہوں

    ہو تنہا بھی تو تم کب یاد کرتی ہو

    مجھے غیروں میں ہی اکثر گنا تم نے

    تو پھر کس حق سے اب فریاد کرتی ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY