مرے خدا کسی صورت اسے ملا مجھ سے

شاہد ذکی

مرے خدا کسی صورت اسے ملا مجھ سے

شاہد ذکی

MORE BYشاہد ذکی

    مرے خدا کسی صورت اسے ملا مجھ سے

    مرے وجود کا حصہ نہ رکھ جدا مجھ سے

    وہ ناسمجھ مجھے پتھر سمجھ کے چھوڑ گیا

    وہ چاہتا تو ستارے تراشتا مجھ سے

    اس ایک خط نے سخنور بنا دیا مجھ کو

    وہ ایک خط کہ جو لکھا نہیں گیا مجھ سے

    اسے ہی ساتھ گوارا نہ تھا مرا ورنہ

    کسے مجال کوئی اس کو چھینتا مجھ سے

    ابھی وصال کے زخموں سے خون رستا ہے

    ابھی خفا ہے محبت کا دیوتا مجھ سے

    ہے آرزو کہ پلٹ جاؤں آسماں کی طرف

    مزاج اہل زمیں کا نہیں ملا مجھ سے

    خطا کے بعد عجب کشمکش رہی شاہدؔ

    خطا سے میں رہا شرمندہ اور خطا مجھ سے

    مآخذ:

    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 17.07.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY