مرے ثبوت بہے جا رہے ہیں پانی میں

فرحت احساس

مرے ثبوت بہے جا رہے ہیں پانی میں

فرحت احساس

MORE BYفرحت احساس

    مرے ثبوت بہے جا رہے ہیں پانی میں

    کسے گواہ بناؤں سرائے فانی میں

    جو آنسوؤں میں نہاتے رہے سو پاک رہے

    نماز ورنہ کسے مل سکی جوانی میں

    بھڑک اٹھے ہیں پھر آنکھوں میں آنسوؤں کے چراغ

    پھر آج آگ لگا دی گئی ہے پانی میں

    ہمیں تھے ایسے کہاں کے کہ اپنے گھر جاتے

    بڑے بڑوں نے گزاری ہے بے مکانی میں

    یہ بے کنار بدن کون پار کر پایا

    بہے چلے گئے سب لوگ اس روانی میں

    وصال و ہجر کہ ایک اک چراغ تھے دونوں

    سیاہ ہو کے رہے شب کے بے کرانی میں

    بس ایک لمس کہ جل جائیں سب خس و خاشاک

    اسے وصال بھی کہتے ہیں خوش بیانی میں

    کہانی ختم ہوئی تب مجھے خیال آیا

    ترے سوا بھی تو کردار تھے کہانی میں

    نہ چاہیئے مجھے وہ آسماں جو میرا نہ ہو

    میں خوش ہوں اپنی ہی مٹی کی آسمانی میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY