مری ہستی سزا ہونے سے پہلے

اسحاق وردگ

مری ہستی سزا ہونے سے پہلے

اسحاق وردگ

MORE BY اسحاق وردگ

    مری ہستی سزا ہونے سے پہلے

    میں مر جاتا بڑا ہونے سے پہلے

    ہمارے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا

    وہ اک بندہ خدا ہونے سے پہلے

    وہ قبلہ اس گلی سے جا چکا تھا

    نماز دل ادا ہونے سے پہلے

    محبت اک مسلسل حادثہ تھی

    ہمارے بے وفا ہونے سے پہلے

    میں اپنی ذات سے نا آشنا تھا

    خدا سے آشنا ہونے سے پہلے

    خزاں میں پھول سا لگتا تھا مجھ کو

    وہ پتھر آئنا ہونے سے پہلے

    بہت مضبوط سی دیوار تھا میں

    کسی کا راستا ہونے سے پہلے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY