مری حیات کو بے ربط باب رہنے دے

احتشام اختر

مری حیات کو بے ربط باب رہنے دے

احتشام اختر

MORE BYاحتشام اختر

    مری حیات کو بے ربط باب رہنے دے

    ورق ورق یوں ہی غم کی کتاب رہنے دے

    میں راہگیروں کی ہمت بندھانے والا ہوں

    مرے وجود میں شامل شراب رہنے دے

    تباہ خود کو میں کر لوں بدن کو چھو کے ترے

    تو اپنے لمس کا مجھ پر عذاب رہنے دے

    ذرا ٹھہر کہ ابھی خون میں سمائی نہیں

    مرے قریب بدن کی شراب رہنے دے

    بھلا چکا ہوں میں سب کچھ دلا نہ یاد مجھے

    جو کھو چکا ہوں اب اس کا حساب رہنے دے

    جلا لیا ہے بدن اپنی آگ میں میں نے

    بجھا نہ اس کو ابھی یہ عذاب رہنے دے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY