مری محبت میں ساری دنیا کو اک کھلونا بنا دیا ہے

فرحت احساس

مری محبت میں ساری دنیا کو اک کھلونا بنا دیا ہے

فرحت احساس

MORE BYفرحت احساس

    مری محبت میں ساری دنیا کو اک کھلونا بنا دیا ہے

    یہ زندگی بن گئی ہے ماں اور مجھ کو بچہ بنا دیا ہے

    جسے کمی ہو وہ آ کے لے جائے میری ہستی سے اپنا حصہ

    مجھے یہ لگتا ہے اس نے مجھ کو بہت زیادہ بنا دیا ہے

    اسے خبر تھی کہ ہم وصال اور ہجر اک ساتھ چاہتے ہیں

    تو اس نے آدھا اجاڑ رکھا ہے اور آدھا بنا دیا ہے

    میں جانتا ہوں مگر مجھے اس فریب میں لطف آ رہا ہے

    سراب ہے وہ جسے مری تشنگی نے دریا بنا دیا ہے

    تری محبت کی خیر جس نے جلا کے خاشاک جسم و جاں کو

    وہ آگ بھڑکائی جس نے پتھر کو آبگینہ بنا دیا ہے

    تو اور کیا چاہیئے تمہیں اک زمین دے دی کتاب جیسی

    اور آسماں پر کلام کرتا ہوا ستارا بنا دیا ہے

    وہ پیر مے خانۂ فلک ان دنوں بہت مہرباں ہے مجھ پر

    تو خود صراحی بنا ہوا ہے مجھے پیالہ بنا دیا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY