مری نگاہ میں یہ رنگ سوز و ساز نہ ہو

رام کرشن مضطر

مری نگاہ میں یہ رنگ سوز و ساز نہ ہو

رام کرشن مضطر

MORE BYرام کرشن مضطر

    مری نگاہ میں یہ رنگ سوز و ساز نہ ہو

    ترے کرم کا اگر سلسلہ دراز نہ ہو

    امید چشم تغافل شعار سے کب تھی

    اس التفات فراواں میں کوئی راز نہ ہو

    ہمارے حال پریشاں پہ اک نظر بھی نہیں

    نیاز مند سے اتنا تو بے نیاز نہ ہو

    کسی نے توڑ دیئے بربط حیات کے تار

    اب اور کیا ہو اگر آہ جاں گداز نہ ہو

    نظر نہ آئے کہیں یہ بہار کا عالم

    اگر تصور روئے چمن طراز نہ ہو

    چلا تو ہے مگر اے رہرو رہ عرفاں

    حقیقتوں کی بھی منزل کہیں مجاز نہ ہو

    جو اس کے حسن کی پرچھائیاں نہ آئیں نظر

    تو روح گرم طواف حریم ناز نہ ہو

    ہے ایک فتنۂ بیدار حسن خوابیدہ

    سنبھل کہ گھات میں وہ چشم نیم باز نہ ہو

    شب فراق نہ کاٹے کٹے کبھی مضطرؔ

    خیال دوست اگر غم میں دل نواز نہ ہو

    مآخذ :
    • Raqs-e-bahar

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY