مری شاعری میں نہ رقص جام نہ مے کی رنگ فشانیاں

کلیم عاجز

مری شاعری میں نہ رقص جام نہ مے کی رنگ فشانیاں

کلیم عاجز

MORE BY کلیم عاجز

    مری شاعری میں نہ رقص جام نہ مے کی رنگ فشانیاں

    وہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی کہانیاں

    یہ جو آہ و نالہ و درد ہیں کسی بے وفا کی نشانیاں

    یہی میرے دن کے رفیق ہیں یہی میری رات کی رانیاں

    یہ مری زباں پہ غزل نہیں میں سنا رہا ہوں کہانیاں

    کہ کسی کے عہد شباب پر مٹیں کیسی کیسی جوانیاں

    کبھی آنسوؤں کو سکھا گئیں مرے سوز دل کی حرارتیں

    کبھی دل کی ناؤ ڈبو گئیں مرے آنسوؤں کی روانیاں

    ابھی اس کو اس کی خبر کہاں کہ قدم کہاں ہے نظر کہاں

    ابھی مصلحت کا گزر کہاں کہ نئی نئی ہیں جوانیاں

    یہ بیان حال یہ گفتگو ہے مرا نچوڑا ہوا لہو

    ابھی سن لو مجھ سے کہ پھر کبھو نہ سنو گے ایسی کہانیاں

    مآخذ:

    • کتاب : vo jo shairi ka sabab hua (Pg. 342)
    • Author : Kaliim aajiz

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY