محبت کو کہتے ہو برتی بھی تھی

مضطر خیرآبادی

محبت کو کہتے ہو برتی بھی تھی

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    محبت کو کہتے ہو برتی بھی تھی

    چلو جاؤ بیٹھو کبھی کی بھی تھی

    بڑے تم ہمارے خبر گیر حال

    خبر بھی ہوئی تھی خبر لی بھی تھی

    صبا نے وہاں جا کے کیا کہہ دیا

    مری بات کم بخت سمجھی بھی تھی

    گلہ کیوں مرے ترک تسلیم کا

    کبھی تم نے تلوار کھینچی بھی تھی

    دلوں میں صفائی کے جوہر کہاں

    جو دیکھا تو پانی میں مٹی بھی تھی

    بتوں کے لیے جان مضطرؔ نے دی

    یہی اس کے مالک کی مرضی بھی تھی

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 216)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY