محبت تم سے ہے لیکن جدا ہیں

جگر بریلوی

محبت تم سے ہے لیکن جدا ہیں

جگر بریلوی

MORE BYجگر بریلوی

    محبت تم سے ہے لیکن جدا ہیں

    حسیں ہو تم تو ہم بھی پارسا ہیں

    ہمیں کیا اس سے وہ کون اور کیا ہیں

    یہ کیا کم ہے حسیں ہیں دل ربا ہیں

    زمانے میں کسے فرصت جو دیکھے

    سخنور کون شے ہیں اور کیا ہیں

    مٹاتے رہتے ہیں ہم اپنی ہستی

    کہ آگاہ مزاج دل ربا ہیں

    نہ جانے درمیاں کون آ گیا ہے

    نہ وہ ہم سے نہ ہم ان سے جدا ہیں

    کبھی رو رو کے سوچے گی یہ دنیا

    ابھی ہم کیا بتائیں آہ کیا ہیں

    نہیں بنتی ہے کچھ بھی کہتے سنتے

    عجب کچھ گو مگو میں مبتلا ہیں

    یہ تیری بے رخی یہ سرگرانی

    جیے جاتے ہیں جو ہم بے حیا ہیں

    جگر بنتا نہیں کچھ کرتے دھرتے

    کہ بالکل جیسے ہم بے دست و پا ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Partav-e-ilhaam (Pg. 229)
    • Author : Jigar Barelvi
    • مطبع : Publisher Nizami Book Agency, Budaun (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY