محبتوں میں حساب ہوگا یہ طے کہاں تھا

نیلوفر نور

محبتوں میں حساب ہوگا یہ طے کہاں تھا

نیلوفر نور

MORE BYنیلوفر نور

    محبتوں میں حساب ہوگا یہ طے کہاں تھا

    ہر ایک لمحہ عذاب ہوگا یہ طے کہاں تھا

    یہ طے ہوا تھا وفا کی شمع جلا کرے گی

    اندھیرا ہم پہ عتاب ہوگا یہ طے کہاں تھا

    خزاں نہ آئے گی زندگی میں کبھی ہماری

    اداس بیلا گلاب ہوگا یہ طے کہاں تھا

    ہماری نظریں سوال بن کر اٹھا کریں گی

    سکوت لب پر جواب ہوگا یہ طے کہاں تھا

    یقیں دلایا تھا ساتھ مل کر رہا کرو گے

    کہ بیچ اپنے چناب ہوگا یہ طے کہاں تھا

    عذاب ہوں گی پلک جھپکنے تلک کی دوری

    وصال اپنا بھی خواب ہوگا یہ طے کہاں تھا

    یہ پھول بن کر مہک اٹھیں گے خیال میرے

    مزاج اتنا خراب ہوگا یہ طے کہاں تھا

    مجھے پکاریں گے تو کہیں گے خوشی ملے گی

    کہ نام اپنا جناب ہوگا یہ طے کہاں تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے