محبتوں میں جو مٹ مٹ کے شاہکار ہوا

ابراہیم اشکؔ

محبتوں میں جو مٹ مٹ کے شاہکار ہوا

ابراہیم اشکؔ

MORE BYابراہیم اشکؔ

    محبتوں میں جو مٹ مٹ کے شاہکار ہوا

    وہ شخص کتنا زمانے میں یادگار ہوا

    تری ہی آس میں گزرے ہیں دھوپ چھاؤں سے ہم

    تری ہی پیاس میں صحرا بھی خوش گوار ہوا

    نہ جانے کتنی بہاروں کی دے گیا خوشبو

    وہ اک بدن جو ہمارے گلے کا ہار ہوا

    تمہارے بعد تو ہر اک قدم ہے بن باس

    ہمارا شہر کے لوگوں میں کب شمار ہوا

    خود اپنے آپ سے لینا تھا انتقام مجھے

    میں اپنے ہاتھ کے پتھر سے سنگسار ہوا

    یہ ایک جان بھی لیتا ہے اشکؔ قسطوں میں

    ذرا سا کام بھی اس سے نہ ایک بار ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے