موتی نہیں ہوں ریت کا ذرہ تو میں بھی ہوں

تیمور حسن

موتی نہیں ہوں ریت کا ذرہ تو میں بھی ہوں

تیمور حسن

MORE BYتیمور حسن

    موتی نہیں ہوں ریت کا ذرہ تو میں بھی ہوں

    دریا ترے وجود کا حصہ تو میں بھی ہوں

    اے قہقہے بکھیرنے والے تو خوش بھی ہے

    ہنسنے کی بات چھوڑ کہ ہنستا تو میں بھی ہوں

    مجھ میں اور اس میں صرف مقدر کا فرق ہے

    ورنہ وہ شخص جتنا ہے اتنا تو میں بھی ہوں

    اس کی تو سوچ دنیا میں جس کا کوئی نہیں

    تو کس لیے اداس ہے تیرا تو میں بھی ہوں

    اک ایک کر کے ڈوبتے تارے بجھا گئے

    مجھ کو بھی ڈوبنا ہے ستارہ تو میں بھی ہوں

    اک آئنے میں دیکھ کے آیا ہے یہ خیال

    میں کیوں نہ اس سے کہہ دوں کہ تجھ سا تو میں بھی ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY