مدتوں کے بعد پھر کنج حرا روشن ہوا

فضا ابن فیضی

مدتوں کے بعد پھر کنج حرا روشن ہوا

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    مدتوں کے بعد پھر کنج حرا روشن ہوا

    کس کے لب پر دیکھنا حرف دعا روشن ہوا

    روح کو آلائش غم سے کبھی خالی نہ رکھ

    یعنی بے زنگار کس کا آئنا روشن ہوا

    یہ تماشا دیدنی ٹھہرا مگر دیکھے گا کون

    ہو گئے ہم راکھ تو دست دعا روشن ہوا

    رات جنگل کا سفر سب ہم سفر بچھڑے ہوئے

    دے نہ ہم کو یہ بشارت راستا روشن ہوا

    خواہشوں خوابوں کا پیکر ہی سہی میرا وجود

    اک ستارے کی حقیقت کیا بجھا روشن ہوا

    بوئے گل پتوں میں چھپتی پھر رہی تھی دیر سے

    نا گہاں شاخوں میں اک دست صبا روشن ہوا

    اس قدر مضبوط موسم پر رہی کس کی گرفت

    میں کہ مجھ سے سینۂ آب و ہوا روشن ہوا

    اک ذرا اس سے بڑھی قربت تو آنکھیں کھل گئیں

    اس کے میرے بیچ تھا جو فاصلا روشن ہوا

    وقت نے کس آگ میں اتنا جلایا ہے مجھے

    جس قدر روشن تھا میں اس سے سوا روشن ہوا

    مجھ کو میری آگہی آنکھوں سے اوجھل کر گئی

    اس نے جو کچھ لوح جاں پر لکھ دیا روشن ہوا

    اے فضاؔ اتنی کشادہ کب تھی معنی کی جہت

    میرے لفظوں سے افق اک دوسرا روشن ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY