مدتوں سے جو معطر تھا وہ دفتر کاٹ کر

ماہر عبدالحی

مدتوں سے جو معطر تھا وہ دفتر کاٹ کر

ماہر عبدالحی

MORE BYماہر عبدالحی

    مدتوں سے جو معطر تھا وہ دفتر کاٹ کر

    زرد موسم لکھ دیا سطر گل تر کاٹ کر

    دیدۂ بینا کی خاطر تھا جو سامان نشاط

    ریزہ ریزہ کر دیا کس نے وہ منظر کاٹ کر

    کوئی کھڑکی ہی نظر آئی نہ دروازہ ملا

    تھک گئے ہیں پاؤں دیواروں کے چکر کاٹ کر

    دامن شب میں ہیں کتنے پھول کیا اس کو خبر

    سو گیا کوہ مشقت کو جو دن بھر کاٹ کر

    کھو گیا ہے آدمی بے چہرگی کے دشت میں

    لے اڑا ہے وقت آئینوں کے جوہر کاٹ کر

    یوں کیا آزاد زنجیر تعلق سے مجھے

    چھوڑ دے جیسے کوئی طوطے کے شہ پر کاٹ کر

    چاہتے ہیں سب کو بے محنت ملے شیریں ہمیں

    کون اب لائے گا جوئے شیریں پتھر کاٹ کر

    تب کہیں پایا کسی نے اس کی منزل کا پتہ

    جب مسافت قطع کی خود کو سراسر کاٹ کر

    تیرگی میں تھا جو ماہرؔ شمع روشن کی مثال

    خاک پر پھینکا ہے کس ظالم نے وہ سر کاٹ کر

    مآخذ
    • کتاب : Hari Sonahri Khak (Ghazal) (Pg. 31)
    • Author : Mahir Abdul Hayee
    • مطبع : Bazme-e-Urdu,Mau (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY