مجھ کو ہونا ہے تو درویش کے جیسا ہو جاؤں

سرفراز نواز

مجھ کو ہونا ہے تو درویش کے جیسا ہو جاؤں

سرفراز نواز

MORE BY سرفراز نواز

    مجھ کو ہونا ہے تو درویش کے جیسا ہو جاؤں

    منزلیں سب کے لئے اور میں رستہ ہو جاؤں

    کتنا دشوار ہے اک لمحہ بھی اپنا ہونا

    اس کو ضد ہے کہ میں ہر حال میں اس کا ہو جاؤں

    میں نے آنکھوں کو تری غور سے دیکھا ہے بہت

    یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ میں اندھا ہو جاؤں

    جو حرارت ہے بدن میں وہ ترے لمس کی ہے

    تو مجھے گر نہ چھوئے مٹی کا تودا ہو جاؤں

    اس قدر لطف بکھرنے میں ملا ہے مجھ کو

    میں نے کوشش ہی نہیں کی کبھی یکجا ہو جاؤں

    پھر یہ ڈرتا ہوں خدا جانے بھلا کیسا ہو

    جی میں آتا ہے کبھی اپنا بھی چہرہ ہو جاؤں

    غائبانہ ہی سہی میرا تعارف ہو جائے

    میں کہانی کا کسی طرح سے حصہ ہو جاؤں

    اس طرح یاد تری آ کے اچک لے مجھ کو

    دفعتاً بھیڑ میں چلتے ہوئے تنہا ہو جاؤں

    ان طبیبوں کو علاج غم دل کیا معلوم

    تم عیادت کو چلے آؤ تو اچھا ہو جاؤں

    یوں ہی مٹی میں پڑا ایک ہنر ہوں میں بھی

    جوہری مجھ کو پرکھ لے تو میں ہیرا ہو جاؤں

    تو نہیں یاد نہیں کوئی نہیں میں بھی نہیں

    اور کچھ اور میں کچھ اور اکیلا ہو جاؤں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY