مجھ کو مجبور سرکشی کہیے

عروج زیدی بدایونی

مجھ کو مجبور سرکشی کہیے

عروج زیدی بدایونی

MORE BYعروج زیدی بدایونی

    مجھ کو مجبور سرکشی کہیے

    آپ اندھیرے کو روشنی کہیے

    ان سے بچھڑا تو اس عذاب میں ہوں

    موت کہئے کہ زندگی کہیے

    سر ساحل بھی لوگ پیاسے ہیں

    اس کو آشوب تشنگی کہیے

    کیوں تجاہل کو عارفانہ کہوں

    میرے چہرے کو اجنبی کہیے

    چار دن کی ہے چاندنی لیکن

    چاندنی ہے تو چاندنی کہیے

    موت بھی زندگی کا اک رخ ہے

    اس کو معیار آگہی کہیے

    غم سے ہم بے مزا نہیں ہوتے

    لذت غم کو چاشنی کہیے

    مجھ کو بخشی ہے فکر ارض و سما

    دوست کی بندہ پروری کہیے

    جلتا بجھتا یہ کرمک شب تاب

    اس کو پرکار سادگی کہیے

    مجھ کو مڑ مڑ کے دیکھنے والے

    کیا اسے طرز بے رخی کہیے

    دھوپ میں ساتھ ساتھ سایہ ہے

    روشنی میں بھی تیرگی کہیے

    رہبری بھی ہے ہمرکاب عروج

    اس کو فیضان خود روی کہیے

    مآخذ :
    • کتاب : Lahje ke Chiraag (Pg. 61)
    • Author : Urooj Zaidi
    • مطبع : Irfan Zaidi, Rampur (1989)
    • اشاعت : 1989

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY