مجھ کو نہیں معلوم کہ وہ کون ہے کیا ہے

بدیع الزماں خاور

مجھ کو نہیں معلوم کہ وہ کون ہے کیا ہے

بدیع الزماں خاور

MORE BYبدیع الزماں خاور

    مجھ کو نہیں معلوم کہ وہ کون ہے کیا ہے

    جو سائے کے مانند مرے ساتھ لگا ہے

    اک اور بھی ہے جسم مرے جسم کے اندر

    اک اور بھی چہرہ مرے چہرے میں چھپا ہے

    مہتاب تو آئے گا نہ سیڑھی سے اتر کر

    دیوانہ کس امید پہ رستے میں کھڑا ہے

    ملنے کی تمنا ہے مگر اس سے ملیں کیا

    جس شخص کا اس شہر میں گھر ہے نہ پتا ہے

    لکھتا ہوں نئی نظم و غزل جس کے سبب میں

    وہ ذوق سخن تو مجھے ورثے میں ملا ہے

    میداں میں چلے آؤ تو کھل جائے یہ تم پر

    کیا شام کی سرشار ہواؤں میں مزا ہے

    سوچا تھا مرے ساتھ چلے گا جو سفر میں

    گھر پر وہ مرا خواب حسیں چھوٹ گیا ہے

    ہم میرؔ کا دیوان تھے کیا فہم پہ کھلتے

    اخبار سمجھ کر ہمیں لوگوں نے پڑھا ہے

    کہتے ہیں کہ اس شہر میں ہے دھوم ہماری

    دیکھا ہے کسی نے نہ جہاں ہم کو سنا ہے

    باہر سے کوئی آج تو خاورؔ کو پکارے

    کمرے میں بہت روز سے وہ بند پڑا ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY