مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہی

کیف احمد صدیقی

مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہی

کیف احمد صدیقی

MORE BYکیف احمد صدیقی

    مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہی

    اور کھیلوں سے محبت ہی سہی

    میں نے اس سے تو بڑے کام لیے

    آپ کو کھیل سے وحشت ہی سہی

    امتحاں سے میں نہیں گھبراتا

    فیل ہونا مری قسمت ہی سہی

    پڑھنے والوں نے بھی کیا کچھ نہ کیا

    نقل کرنا مری عادت ہی سہی

    میں نے تو صرف گزارش کی تھی

    سب کی نظروں میں شکایت ہی سہی

    میں کسی سے نہ لڑوں گا ہرگز

    دب کے رہنا مری فطرت ہی سہی

    میں نہ چھوڑوں گا شرافت کا چلن

    یہ شرافت مری ذلت ہی سہی

    کبھی چومے گی قدم خود منزل

    آج ہر گام پہ دقت ہی سہی

    یہ مصیبت بھی بڑی دل کش ہے

    زندگی ایک مصیبت ہی سہی

    کیفؔ اک دن یہ بنا دے گی تجھے

    شعر گوئی تری عادت ہی سہی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY