مجھ میں کسی کا عکس نہ پرتو خالی آئینہ ہوں میں

مخمور سعیدی

مجھ میں کسی کا عکس نہ پرتو خالی آئینہ ہوں میں

مخمور سعیدی

MORE BYمخمور سعیدی

    مجھ میں کسی کا عکس نہ پرتو خالی آئینہ ہوں میں

    میرے ٹکڑے کون سمیٹے اب ٹوٹوں یا بکھروں میں

    میری رسائی میری حدوں تک تیری فضا میں تو بھی قید

    تو مجھ تک آئے تو کیوں کر تجھ تک کیسے پہنچوں میں

    رخ پہ جو تیرے شفق کھلی ہے خون ہے میرے خوابوں کا

    کہے تو اے شام تنہائی تجھ سے لپٹ کر رو لوں میں

    دوری کے یہ لمحے بڑھ کر کہیں نہ صدیاں بن جائیں

    تجھ کو جب اپنے پاس نہ پاؤں جانے کیا کیا سوچوں میں

    دیواروں سے سر ٹکراؤں بند دریچوں کے پیچھے

    کھلی فضا میں آ نکلوں تو موج ہوا سے الجھوں میں

    کون سنے گا یہ طولانی قصہ کس کو فرصت ہے

    جو کچھ مجھ پر بیت رہی ہے اپنے دل میں رکھوں میں

    لفظوں میں احساس کی کلیاں کھلا رہا ہوں اے مخمورؔ

    جیسے کوئی مجھ سے کہتا ہو آ تیرے لب چوموں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY