مجھ میں اس میں حجاب تھا نہ رہا

لئیق عاجز

مجھ میں اس میں حجاب تھا نہ رہا

لئیق عاجز

MORE BYلئیق عاجز

    مجھ میں اس میں حجاب تھا نہ رہا

    پہلے جو اضطراب تھا نہ رہا

    کفر ہی دین بن گیا میرا

    کفر میں جو حجاب تھا نہ رہا

    لذت صبح و شام بھول گئے

    دل جو بھن کر کباب تھا نہ رہا

    بے حیائی کی اوڑھ لی چادر

    پہلے وہ آب آب تھا نہ رہا

    اس نے اب ساتھ میرا چھوڑ دیا

    عشق میں کامیاب تھا نہ رہا

    روز و شب چین سے گزرتے ہیں

    وقت میں پیچ و تاب تھا نہ رہا

    ہو گئے اس کے در کے پہرے دار

    میرا جینا عذاب تھا نہ رہا

    شام ہوتے ہی بجھ گیا عاجزؔ

    ایک مفلس کا خواب تھا نہ رہا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY