مجھ سے اب تک یہ گلہ ہے مرے غم خواروں کو

کفیل آزر امروہوی

مجھ سے اب تک یہ گلہ ہے مرے غم خواروں کو

کفیل آزر امروہوی

MORE BYکفیل آزر امروہوی

    مجھ سے اب تک یہ گلہ ہے مرے غم خواروں کو

    کیوں چھوا میں نے تری یاد کے انگاروں کو

    ذہن و دل حشر کے سورج کی طرح جلتے ہیں

    جب سے چھوڑا ہے ترے شہر کی دیواروں کو

    آج بھی آپ کی یادوں کے مقدس جھونکے

    چھیڑ جاتے ہیں محبت کے گنہ گاروں کو

    آرزو سوچ تڑپ درد کسک غم آنسو

    ہم سے کیا کیا نہ ملا ہجر کے بازاروں کو

    تیرے جلتے ہوئے ہونٹوں کی حرارت نہ ملی

    میری تنہائی کے بھیگے ہوئے رخساروں کو

    تم کو ماحول سے ہو جائے گی نفرت آزرؔ

    اتنے نزدیک سے دیکھا نہ کرو یاروں کو

    مآخذ:

    • کتاب : Dhoop Ka Dareecha (Pg. 89)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY