مجھ سے چھپ کر مرے ارمانوں کو برباد نہ کر

بیدم شاہ وارثی

مجھ سے چھپ کر مرے ارمانوں کو برباد نہ کر

بیدم شاہ وارثی

MORE BYبیدم شاہ وارثی

    مجھ سے چھپ کر مرے ارمانوں کو برباد نہ کر

    داد خواہی کے لیے آیا ہوں بیداد نہ کر

    دیکھ مٹ جائے گا ہستی سے گزر جائے گا

    دل نا عاقبت اندیش انہیں یاد نہ کر

    آ گیا اب تو مجھے لطف اسیری صیاد

    ذبح کر ڈال مگر قید سے آزاد نہ کر

    جس پہ مرتا ہوں اسے دیکھ تو لوں جی بھر کے

    اتنی جلدی تو مرے قتل میں جلاد نہ کر

    آپ تو ظلم لگاتار کئے جاتے ہیں

    مجھ سے تاکید پہ تاکید ہے فریاد نہ کر

    جلوہ دکھلا کے مرا لوٹ لیا صبر و قرار

    پھر یہ کہتے ہیں کہ تو نالہ و فریاد نہ کر

    آپ ہی اپنی جفاؤں پہ پشیمان ہیں وہ

    ان کو محجوب زیادہ دل ناشاد نہ کر

    اے صبا کوچۂ جاناں میں پڑا رہنے دے

    خاک ہم خاک نشینوں کی تو برباد نہ کر

    ہم تو جب سمجھیں کہ ہاں دل پہ ہے قابو بیدمؔ

    وہ تجھے بھول گئے تو بھی انہیں یاد نہ کر

    مأخذ :
    • کتاب : jigar parah armagaan bedam shaah (Pg. 37)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے