مجھے عیش و عشرت کی قدرت نہیں ہے

تاباں عبد الحی

مجھے عیش و عشرت کی قدرت نہیں ہے

تاباں عبد الحی

MORE BYتاباں عبد الحی

    مجھے عیش و عشرت کی قدرت نہیں ہے

    کروں ترک دنیا تو ہمت نہیں ہے

    کبھی غم سے مجھ کو فراغت نہیں ہے

    کبھی آہ و نالہ سے فرصت نہیں ہے

    صفوں کی صفیں عاشقوں کی الٹ دیں

    قیامت ہے یہ کوئی قامت نہیں ہے

    برستا ہے مینہ میں ترستا ہوں مے کو

    غضب ہے یہ باران رحمت نہیں ہے

    مرے سر پہ ظالم نہ لایا ہو جس کو

    کوئی ایسی دنیا میں آفت نہیں ہے

    ہے ملنا مرا فخر عالم کو لیکن

    ترے پاس کچھ میری حرمت نہیں ہے

    میں گور غریباں پہ جا کر جو دیکھا

    بجز نقش پا لوح تربت نہیں ہے

    بری ہی طرح مجھ سے روٹھی ہیں مژگاں

    انہیں کچھ بھی چشم مروت نہیں ہے

    تو کرتا ہے ابلیس کے کام زاہد

    ترے فعل پر کیونکے لعنت نہیں ہے

    میں دل کھول تاباںؔ کہاں جا کے روؤں

    کہ دونوں جہاں میں فراغت نہیں ہے

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    مجھے عیش و عشرت کی قدرت نہیں ہے فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY