مجھے دنیا والو شرابی نہ سمجھو میں پیتا نہیں ہوں پلائی گئی ہے
مجھے دنیا والو شرابی نہ سمجھو میں پیتا نہیں ہوں پلائی گئی ہے
جہاں بے خودی میں قدم لڑکھڑائے وہی راہ مجھ کو دکھائی گئی ہے
نشے میں ہوں لیکن مجھے یہ خبر ہیں کہ اس زندگی میں سبھی پی رہے ہے
کسی کو ملے ہیں چھلکتے پیالے کسی کو نظر سے پلائی گئی ہے
کسی کو نشہ ہے جہاں میں خوشی کا کسی کو نشہ ہے غم زندگی کا
کوئی پی رہا ہے لہو آدمی کا ہر اک دل میں مستی رچائی گئی ہے
زمانے کے یارو چلن ہیں نرالے یہاں تن ہیں اجلے مگر دل ہیں کالے
یہ دنیا ہے دنیا یہاں مال و زر میں دلوں کی خرابی چھپائی گئی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.