مجھے جب بھی کبھی تیری کمی محسوس ہوتی ہے

سالم شجاع انصاری

مجھے جب بھی کبھی تیری کمی محسوس ہوتی ہے

سالم شجاع انصاری

MORE BYسالم شجاع انصاری

    مجھے جب بھی کبھی تیری کمی محسوس ہوتی ہے

    تری خوشبو تری موجودگی محسوس ہوتی ہے

    یہی انعام ہے شاید مری چہرہ شناسی کا

    خود اپنی شکل بھی اب اجنبی محسوس ہوتی ہے

    یونہی بے کیف لمحوں کے گزر جانے سے کیا حاصل

    کسی کا ساتھ ہو تو زندگی محسوس ہوتی ہے

    کسی کی یاد کے جگنو سفر میں جھلملاتے ہیں

    اندھیرے راستوں پر روشنی محسوس ہوتی ہے

    ضروری تو نہیں تکمیل سے تسکین ہو جائے

    سمندر کو بھی اکثر تشنگی محسوس ہوتی ہے

    تصور کی زمیں پر فصل اگتی ہے سرابوں کی

    نمی ہوتی نہیں لیکن نمی محسوس ہوتی ہے

    نہ جانے کون سا رشتہ ہے اپنے درمیاں سالمؔ

    تو خوش ہوتا ہے تو مجھ کو خوشی محسوس ہوتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے