مجھے جلووں کی اس کے تمیز ہو کیا میرے ہوش و حواس بچا ہی نہیں

بیدم شاہ وارثی

مجھے جلووں کی اس کے تمیز ہو کیا میرے ہوش و حواس بچا ہی نہیں

بیدم شاہ وارثی

MORE BYبیدم شاہ وارثی

    مجھے جلووں کی اس کے تمیز ہو کیا میرے ہوش و حواس بچا ہی نہیں

    ہے یہ بے خبری کہ خبر ہی نہیں وہ نقاب اٹھا کہ اٹھا ہی نہیں

    مرے حال پہ چھوڑ طبیب مجھے کہ عذاب ہے مری زیست مجھے

    میرا مرنا ہی میرے لیے ہے شفا میرے درد کی کوئی دوا ہی نہیں

    اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے کھو گئے ہمیں ہوا کیا اور کیا ہو گئے ہم

    ہمیں پہروں تک اپنی خبر ہی نہیں ہمیں کوسوں تک اپنا پتا ہی نہیں

    مرا حال خراب سنا تو کہا کہ وہ سامنے میرے نہ آئے کبھی

    مجھے روتے جو دیکھا تو ہنس کے کہا کہ یہ شیوۂ اہل وفا ہی نہیں

    جہاں کوئی ستم ایجاد کیا مجھے کہہ کے فلک نے یہ یاد کیا

    کہ بس ایک دل بیدمؔ کے سوا کوئی قابل مشق جفا ہی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے