مجھے کہاں مرے اندر سے وہ نکالے گا

عزیز بانو داراب وفا

مجھے کہاں مرے اندر سے وہ نکالے گا

عزیز بانو داراب وفا

MORE BYعزیز بانو داراب وفا

    مجھے کہاں مرے اندر سے وہ نکالے گا

    پرائی آگ میں کوئی نہ ہاتھ ڈالے گا

    وہ آدمی بھی کسی روز اپنی خلوت میں

    مجھے نہ پا کے کوئی آئینہ نکالے گا

    وہ سبز ڈال کا پنچھی میں ایک خشک درخت

    ذرا سی دیر میں وہ اپنا راستہ لے گا

    میں وہ چراغ ہوں جس کی ضیا نہ پھیلے گی

    مرے مزاج کا سورج مجھے چھپا لے گا

    کریدتا ہے بہت راکھ میرے ماضی کی

    میں چوک جاؤں تو وہ انگلیاں جلا لے گا

    وہ اک تھکا ہوا راہی میں ایک بند سرائے

    پہنچ بھی جائے گا مجھ تک تو مجھ سے کیا لے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY