مجھے نقل پر بھی اتنا اگر اختیار ہوتا

کیف احمد صدیقی

مجھے نقل پر بھی اتنا اگر اختیار ہوتا

کیف احمد صدیقی

MORE BYکیف احمد صدیقی

    مجھے نقل پر بھی اتنا اگر اختیار ہوتا

    کبھی فیل امتحاں میں نہ میں بار بار ہوتا

    جو میں فیل ہو گیا تو سبھی دے رہے ہیں طعنے

    کوئی دل نواز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا

    مجھے آج اتنی نفرت سے نہ دیکھتی یہ دنیا

    جو پڑھائی سے ذرا بھی مرے دل کو پیار ہوتا

    مرے ماسٹر نہ ہوتے جو علوم و فن میں دانا

    کبھی مولیٰ بخش صاحب کا نہ میں شکار ہوتا

    وہ پڑھاتے وقت درجے میں ہزار بار برسے

    جو مجھے بھی چھینک آتی انہیں ناگوار ہوتا

    نہ میں تندرست ہوتا نہ کبھی اسکول جاتا

    کبھی سر میں درد رہتا تو کبھی بخار ہوتا

    کبھی مدرسے میں آتا کوئی ایسا چاٹ والا

    کہ جو مفت میں کھلاتا نہ کبھی ادھار ہوتا

    یہ گدھا جو اپنی غفلت سے ہے بےوقوف اتنا

    جو یہ خود کو جان جاتا بڑا ہوشیار ہوتا

    ترے گھر میں کیفؔ تیرا کوئی قدرداں نہیں ہے

    جو وطن سے دور ہوتا تو بڑا وقار ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY