مجھے شکوہ نہیں برباد رکھ برباد رہنے دے

بیدم شاہ وارثی

مجھے شکوہ نہیں برباد رکھ برباد رہنے دے

بیدم شاہ وارثی

MORE BYبیدم شاہ وارثی

    مجھے شکوہ نہیں برباد رکھ برباد رہنے دے

    مگر اللہ میرے دل میں اپنی یاد رہنے دے

    قفس میں قید رکھ یا قید سے آزاد رہنے دے

    بہر صورت چمن ہی میں مجھے صیاد رہنے دے

    مرے ناشاد رہنے سے اگر تجھ کو مسرت ہے

    تو میں ناشاد ہی اچھا مجھے ناشاد رہنے دے

    تری شان تغافل پر مری بربادیاں صدقے

    جو برباد تمنا ہو اسے برباد رہنے دے

    تجھے جتنے ستم آتے ہیں مجھ پر ختم کر دینا

    نہ کوئی ظلم رہ جائے نہ اب بیداد رہنے دے

    نہ صحرا میں بہلتا ہے نہ کوئے یار میں ٹھہرے

    کہیں تو چین سے مجھ کو دل ناشاد رہنے دے

    کچھ اپنی گزری ہی بیدمؔ بھلی معلوم ہوتی ہے

    مری بیتی سنا دے قصۂ فرہاد رہنے دے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے