مجھے ان سے محبت ہو گئی ہے

آتش بہاولپوری

مجھے ان سے محبت ہو گئی ہے

آتش بہاولپوری

MORE BYآتش بہاولپوری

    مجھے ان سے محبت ہو گئی ہے

    میری بھی کوئی قیمت ہو گئی ہے

    وہ جب سے ملتفت مجھ سے ہوئے ہیں

    یہ دنیا خوب صورت ہو گئی ہے

    چڑھایا جا رہا ہوں دار پر میں

    بیاں مجھ سے حقیقت ہو گئی ہے

    رواں دریا ہیں انسانی لہو کے

    مگر پانی کی قلت ہو گئی ہے

    مجھے بھی اک ستم گر کے کرم سے

    ستم سہنے کی عادت ہو گئی ہے

    حقیقت یہ ہے ہم کیا اٹھ گئے ہیں

    وفا دنیا سے رخصت ہو گئی ہے

    غم جاناں میں جب سے مبتلا ہوں

    غم دوراں سے فرصت ہو گئی ہے

    اب ان کی کفر سامانی بھی آتشؔ

    دل و جاں پر عبارت ہو گئی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Jada-e-manzil (Pg. 69)
    • Author : Atish Bahawalpuri
    • مطبع : Nirali Duniya Publications (2001)
    • اشاعت : 2001

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY