مجھے وہ چھوڑ کر جب سے گیا ہے انتہا ہے

طاہر عدیم

مجھے وہ چھوڑ کر جب سے گیا ہے انتہا ہے

طاہر عدیم

MORE BYطاہر عدیم

    مجھے وہ چھوڑ کر جب سے گیا ہے انتہا ہے

    رگ و پے میں فضائے کربلا ہے انتہا ہے

    مرے حالات ہیں ناراض اس پہ کیا کروں میں

    گریزاں آسمانوں سے دعا ہے انتہا ہے

    غم و آلام ہیں یا حسرتیں ہیں زندگی میں

    تمہارے بعد باقی کیا بچا ہے انتہا ہے

    فقط تم ہی نہیں ناراض مجھ سے جان جاناں

    مرے اندر کا انساں تک خفا ہے انتہا ہے

    کہیں منظر اسالیب ہوس کے چار سو ہیں

    کہیں پہ خون آلودہ فضا ہے انتہا ہے

    خموشی توڑ دے اے خالق ارض و سما اب

    تری مخلوق بن بیٹھی خدا ہے انتہا ہے

    غزل جو تم پہ طاہرؔ نے لکھی تھی جان طاہرؔ

    وہی تو زینت بام بقا ہے انتہا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے