مخالف آندھیوں میں عزم کے دیپک جلاتا ہوں

اجیت سنگھ حسرت

مخالف آندھیوں میں عزم کے دیپک جلاتا ہوں

اجیت سنگھ حسرت

MORE BY اجیت سنگھ حسرت

    مخالف آندھیوں میں عزم کے دیپک جلاتا ہوں

    کبھی جب وقت پڑتا ہے تو خود کو آزماتا ہوں

    میں شہزادہ ہوا کا ہوں خلا میری ریاست ہے

    کبھی میں اڑتے اڑتے آسماں کو پھاند جاتا ہوں

    کبھی میں ریت ہی سے کھیلتا رہتا ہوں بچوں سا

    کبھی میں ذات کے گہرے سمندر میں نہاتا ہوں

    کبھی بے خود پڑا رہتا ہوں میں پردہ نشیں ہو کر

    کبھی فطرت کے اک اک راز سے پردے اٹھاتا ہوں

    کبھی احساس کا اک خار چبھ جائے تو رو اٹھوں

    کبھی میں دار کے تختے پہ چڑھ کر مسکراتا ہوں

    کبھی میں روتے روتے ہنس دیا کرتا ہوں پاگل سا

    کبھی میں ہنستے ہنستے آنسوؤں سے بھیگ جاتا ہوں

    کبھی میں بے حس و حرکت پڑا رہتا ہوں پہروں تک

    کبھی میں زندگی کے ساز پر نغمے سناتا ہوں

    کبھی زرخیز دھرتی کو بھی خاطر میں نہیں لاتا

    کبھی بنجر زمیں میں آس کے پودے لگاتا ہوں

    میں اک قطرہ ہوں لیکن اب سمندر بن گیا سمجھو

    میں اک ندی سے مل کر سوئے منزل بھاگا جاتا ہوں

    مری فطرت عجب ہے آج تک میں بھی نہیں سمجھا

    وہ جن کے پر نہیں ہوتے انہیں اڑنا سکھاتا ہوں

    میں گہرے پانیوں کو چیر دیتا ہوں مگر حسرتؔ

    جہاں پانی بہت کم ہو وہاں میں ڈوب جاتا ہوں

    مآخذ:

    • کتاب : Tanveer-e-Fan (Pg. 74)
    • Author : Compiled by Dr. Keval Dheer, Mitr Nikodari,Author Ajeet Singh 'Hasrat'
    • مطبع : Dr. Bhajan Singh, 189 Model Gram, Ludhiana-02 (2006)
    • اشاعت : 2006

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY