مخالف جب سے آئینہ ہوا ہے

سالم شجاع انصاری

مخالف جب سے آئینہ ہوا ہے

سالم شجاع انصاری

MORE BYسالم شجاع انصاری

    مخالف جب سے آئینہ ہوا ہے

    مرا چہرہ ہی کچھ بدلا ہوا ہے

    اسے بھولے ہوئے عرصہ ہوا ہے

    یہ سچ ہے یا مجھے دھوکا ہوا ہے

    کوئی کھیلا کسی نے توڑ ڈالا

    یہ دل کے ساتھ بھی کیا کیا ہوا ہے

    کنارے لگ گیا گستاخ تنکا

    سمندر فکر میں ڈوبا ہوا ہے

    سمٹنے کا بھی ہے اب ہوش کس کو

    ابھی رخت سفر بکھرا ہوا ہے

    تمہارے فیصلے بھی طے شدہ تھے

    ہمارا جرم بھی سوچا ہوا ہے

    مجھے راس آ گئی ہے اجنبیت

    ہر اک رشتہ مرا پرکھا ہوا ہے

    نظر پر دھول کی پرتیں جمی ہیں

    تمہارا عکس بھی دھندلا ہوا ہے

    چلو سالمؔ کہیں گمراہ ہو لیں

    یہاں ہر راستہ بھٹکا ہوا ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے