مختصر ہی سہی میسر ہے

صابر

مختصر ہی سہی میسر ہے

صابر

MORE BYصابر

    مختصر ہی سہی میسر ہے

    جو بھی کچھ ہے نہیں سے بہتر ہے

    دن دہاڑے گناہ کرتا ہوں

    معتبر ہو نہ جاؤں یہ ڈر ہے

    منچ پر کامیاب ہو کہ نہ ہو

    مجھ کو کردار اپنا ازبر ہے

    سب کو پتھرا دیا پلک جھپکے

    ہم نہ کہتے تھے شعبدہ گر ہے

    عین ممکن ہے وہ پلٹ آئے

    میرا ایمان معجزوں پر ہے

    پہلے موسم پہ تبصرہ کرنا

    پھر وہ کہنا جو دل کے اندر ہے

    سارے منظر حسین لگتے ہیں

    دوریاں کم نہ ہوں تو بہتر ہے

    راستے بین کر رہے ہیں کیوں

    کیا مسافت یہ انتہا پر ہے

    فصل بوئی بھی ہم نے کاٹی بھی

    اب نہ کہنا زمین بنجر ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY