منہ آنسوؤں سے اپنا عبث دھو رہے ہو کیوں

صادق

منہ آنسوؤں سے اپنا عبث دھو رہے ہو کیوں

صادق

MORE BYصادق

    منہ آنسوؤں سے اپنا عبث دھو رہے ہو کیوں

    ہنستے جہان بیچ کھڑے رو رہے ہو کیوں

    آ جاؤ اپنے مکھ سے مکھوٹا اتار کر!

    بہروپیوں کے ساتھ سمے کھو رہے ہو کیوں

    کیا اس سے ہوگا روح کے زخموں کو فائدہ

    ٹوٹے دلوں کی سن کے صدا رو رہے ہو کیوں

    اس گھومتی زمین کا محور ہی توڑ دو

    بے کار گردشوں پہ خفا ہو رہے ہو کیوں

    یہ بوڑھی نسل جب کہ تمہیں مانتی نہیں

    اپنے بدن میں اس کا لہو ڈھو رہے ہو کیوں

    مآخذ :
    • کتاب : kushaad (Pg. 96)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY