منکر بت ہے یہ جاہل تو نہیں

سخی لکھنوی

منکر بت ہے یہ جاہل تو نہیں

سخی لکھنوی

MORE BYسخی لکھنوی

    منکر بت ہے یہ جاہل تو نہیں

    گھر سے واعظ کہیں فاضل تو نہیں

    تم نہ آسان کو آساں سمجھو

    ورنہ مشکل مری مشکل تو نہیں

    کیا سنبھالے میرے دل کا لنگر

    زلف ہے کچھ وہ سلاسل تو نہیں

    آج میں دل کو جدا کرتا ہوں

    دیکھیے آپ کے قابل تو نہیں

    زلزلہ میں جو زمیں آتی ہے

    یہ بھی اس شوخ پہ بسمل تو نہیں

    درد کو گردہ تڑپنے کو جگر

    ہجر میں سب ہیں مگر دل تو نہیں

    ہڈیاں کھانے کو کھاتا ہے ہما

    سگ جاناں کے مقابل تو نہیں

    بولا وہ گل جو سنی آہ سخیؔ

    ایسی آواز عنادل تو نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے