عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں

داغؔ دہلوی

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں

داغؔ دہلوی

MORE BY داغؔ دہلوی

    عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں

    باعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں

    منتظر ہیں دم رخصت کہ یہ مر جائے تو جائیں

    پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں

    سر اٹھاؤ تو سہی آنکھ ملاؤ تو سہی

    نشۂ مے بھی نہیں نیند کے ماتے بھی نہیں

    کیا کہا پھر تو کہو ہم نہیں سنتے تیری

    نہیں سنتے تو ہم ایسوں کو سناتے بھی نہیں

    خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں

    صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

    مجھ سے لاغر تری آنکھوں میں کھٹکتے تو رہے

    تجھ سے نازک مری نظروں میں سماتے بھی نہیں

    دیکھتے ہی مجھے محفل میں یہ ارشاد ہوا

    کون بیٹھا ہے اسے لوگ اٹھاتے بھی نہیں

    ہو چکا قطع تعلق تو جفائیں کیوں ہوں

    جن کو مطلب نہیں رہتا وہ ستاتے بھی نہیں

    زیست سے تنگ ہو اے داغؔ تو جیتے کیوں ہو

    جان پیاری بھی نہیں جان سے جاتے بھی نہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    مہدی حسن

    مہدی حسن

    بیگم اختر

    بیگم اختر

    RECITATIONS

    جاوید نسیم

    جاوید نسیم

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    جاوید نسیم

    Uzr aane mein bhi hai aur bulate bhi nahin جاوید نسیم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY