سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا

شہریار

سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا

شہریار

MORE BY شہریار

    سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا

    کہ کھیل ختم ہوا کشتیاں ڈبونے کا

    برہنہ جسم بگولوں کا قتل ہوتا رہا

    خیال بھی نہیں آیا کسی کو رونے کا

    صلہ کوئی نہیں پرچھائیوں کی پوجا کا

    مآل کچھ نہیں خوابوں کی فصل بونے کا

    بچھڑ کے تجھ سے مجھے یہ گمان ہوتا ہے

    کہ میری آنکھیں ہیں پتھر کی جسم سونے کا

    ہجوم دیکھتا ہوں جب تو کانپ اٹھتا ہوں

    اگرچہ خوف نہیں اب کسی کے کھونے کا

    گئے تھے لوگ تو دیوار قہقہہ کی طرف

    مگر یہ شور مسلسل ہے کیسا رونے کا

    مرے وجود پہ نفرت کی گرد جمتی رہی

    ملا نہ وقت اسے آنسوؤں سے دھونے کا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites