مقابل اپنے حقیقت کا آئینہ رکھنا

حیات وارثی

مقابل اپنے حقیقت کا آئینہ رکھنا

حیات وارثی

MORE BYحیات وارثی

    مقابل اپنے حقیقت کا آئینہ رکھنا

    اندھیری رات میں دروازہ مت کھلا رکھنا

    یہ سوز و کرب مجھے تجربوں نے بخشا ہے

    جلانا شمع تو دامن سے فاصلہ رکھنا

    خود اپنے واسطے بہتر جسے سمجھتے ہو

    وہی سلوک مرے واسطے روا رکھنا

    نہ توڑی اس لئے میں نے سکوت کی زنجیر

    ابھی ہے ان سے تخاطب کا سلسلہ رکھنا

    نقاب کہرے کی ڈالے ہوئے ہے ہر کھائی

    درست اپنی نگاہوں کا زاویہ رکھنا

    فصیل شہر انا تک پہنچنے والا ہوں

    اسی طرح یہ تغافل کا سلسلہ رکھنا

    میں کر رہا ہوں مکمل حیات کا پیکر

    جفا کا کوئی بھی پہلو نہ تم اٹھا رکھنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے