مقدر میں ساحل کہاں ہے میاں

عابد مناوری

مقدر میں ساحل کہاں ہے میاں

عابد مناوری

MORE BYعابد مناوری

    مقدر میں ساحل کہاں ہے میاں

    مری ناؤ بے بادباں ہے میاں

    جو برق تپاں سے منور رہے

    وہی آشیاں آشیاں ہے میاں

    کہاں جائیے مے کدہ چھوڑ کر

    یہی ایک جائے اماں ہے میاں

    ابد تک مکمل نہ ہو پائے گی

    شب غم کی یہ داستاں ہے میاں

    کہاں پاؤں رکھوں پریشان ہوں

    زمیں صورت آسماں ہے میاں

    مقدس سہی کاروبار وفا

    مگر اس میں نقصان جاں ہے میاں

    عجب پھیکی پھیکی سی ہے چاندنی

    اداس آج کیوں چندرماں ہے میاں

    جہاں دل کے بدلے میں ملتا ہے دل

    وہ دنیا نہ جانے کہاں ہے میاں

    نہیں مجھ سے عابدؔ وہ کچھ خاص دور

    فقط زندگی درمیاں ہے میاں

    مآخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY