مسافروں کا کبھی اعتبار مت کرنا

قیصر الجعفری

مسافروں کا کبھی اعتبار مت کرنا

قیصر الجعفری

MORE BYقیصر الجعفری

    مسافروں کا کبھی اعتبار مت کرنا

    جہاں کہا تھا وہاں انتظار مت کرنا

    میں نیند ہوں مری حد ہے تمہاری پلکوں تک

    بدن جلا کے مرا انتظار مت کرنا

    میں بچ گیا ہوں مگر سارے خواب ڈوب گئے

    مری طرح بھی سمندر کو پار مت کرنا

    بہا لو اپنے شہیدوں کی قبر پر آنسو

    مگر یہ حکم ہے کتبے شمار مت کرنا

    ہوا عزیز ہے لیکن یہ اس کی ضد کیا ہے

    تم اپنے گھر کے چراغوں کو پیار مت کرنا

    یہ وقت بند دریچوں پہ لکھ گیا قیصرؔ

    میں جا رہا ہوں مرا انتظار مت کرنا

    مأخذ :
    • کتاب : Agar Darya Mila Hota (Pg. 113)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY