مضطرب دل کی کہانی اور ہے

فصیح اکمل

مضطرب دل کی کہانی اور ہے

فصیح اکمل

MORE BYفصیح اکمل

    مضطرب دل کی کہانی اور ہے

    کوئی لیکن اس کا ثانی اور ہے

    اس کی آنکھیں دیکھ کر ہم پر کھلا

    یہ شعور حکمرانی اور ہے

    یہ جو قاتل ہیں انہیں کچھ مت کہو

    اس ستم کا کوئی بانی اور ہے

    عمر بھر تم شاعری کرتے رہو

    زخم دل کی ترجمانی اور ہے

    حوصلہ ٹوٹے نہ راہ شوق میں

    غم کی ایسی میزبانی اور ہے

    مدعا اظہار سے کھلتا نہیں ہے

    یہ زبان بے زبانی اور ہے

    آئینے کے سامنے بیٹھا ہے کون

    آج منظر پر جوانی اور ہے

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    مضطرب دل کی کہانی اور ہے فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY