نہ اپنے آپ کو اس طرح در بدر رکھتے

قمر رضا شہزاد

نہ اپنے آپ کو اس طرح در بدر رکھتے

قمر رضا شہزاد

MORE BY قمر رضا شہزاد

    نہ اپنے آپ کو اس طرح در بدر رکھتے

    پلٹ کے آتے اگر ہم بھی کوئی گھر رکھتے

    عجیب وحشت شب تھی کہ شام ڈھلتے ہی

    تمام لوگ منڈیروں پر اپنے سر رکھتے

    جو اپنی فتح کے نشے میں چور تھے وہ بھلا

    سلگتے شہر کے منظر پہ کیا نظر رکھتے

    یہ اور بات کہ سرسبز تھے بہت لیکن

    ہم ایسے پیڑ نہ بن پائے جو ثمر رکھتے

    جنہیں ہوا کی رفاقت عزیز تھی شہزادؔ

    وہ اپنے پاؤں بھلا کیا زمین پر رکھتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY