نہ بھول پائے تمہیں حادثہ ہی ایسا تھا

ظفر گورکھپوری

نہ بھول پائے تمہیں حادثہ ہی ایسا تھا

ظفر گورکھپوری

MORE BYظفر گورکھپوری

    نہ بھول پائے تمہیں حادثہ ہی ایسا تھا

    نہ بھر سکا کوئی اس کو خلا ہی ایسا تھا

    وہ مجھ میں رہ کے مجھے کاٹتا رہا پل پل

    زباں پہ آ نہ سکا ماجرا ہی ایسا تھا

    نظر نہ آئی کہیں دور دور تک کوئی موج

    میں غرق ہو گیا طوفاں اٹھا ہی ایسا تھا

    نہ آیا لطف کسی اور غم کو جھیلنے میں

    غم حیات ترا ذائقہ ہی ایسا تھا

    کھلے تو لب مگر الفاظ دونوں سمت نہ تھے

    مکالمہ نہ ہوا مرحلہ ہی ایسا تھا

    اب اس کا رنج بھی کیا کیوں لہولہان ہیں پاؤں

    چلے تھے جس پہ ظفرؔ راستہ ہی ایسا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY