نہ دوستی سے رہے اور نہ دشمنی سے رہے

سحر انصاری

نہ دوستی سے رہے اور نہ دشمنی سے رہے

سحر انصاری

MORE BYسحر انصاری

    نہ دوستی سے رہے اور نہ دشمنی سے رہے

    ہمیں تمام گلے اپنی آگہی سے رہے

    وہ پاس آئے تو موضوع گفتگو نہ ملے

    وہ لوٹ جائے تو ہر گفتگو اسی سے رہے

    ہم اپنی راہ چلے لوگ اپنی راہ چلے

    یہی سبب ہے کہ ہم سرگراں سبھی سے رہے

    وہ گردشیں ہیں کہ چھٹ جائیں خود ہی بات سے ہات

    یہ زندگی ہو تو کیا ربط جاں کسی سے رہے

    کبھی ملا وہ سر رہ گزر تو ملتے ہی

    نظر چرانے لگا ہم بھی اجنبی سے رہے

    گداز قلب کہے کوئی یا کہ ہرجائی

    خلوص و درد کے رشتے یہاں سبھی سے رہے

    مآخذ:

    • کتاب : namuud (Pg. 106)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY