نہ غرور ہے خرد کو نہ جنوں میں بانکپن ہے

فرید جاوید

نہ غرور ہے خرد کو نہ جنوں میں بانکپن ہے

فرید جاوید

MORE BYفرید جاوید

    نہ غرور ہے خرد کو نہ جنوں میں بانکپن ہے

    یہ مزاج زندگی تو بڑا حوصلہ شکن ہے

    جہاں مل سکیں نہ مل کے جہاں فاصلے ہوں دل کے

    اسے انجمن نہ سمجھو وہ فریب انجمن ہے

    یہ ہوا چلی ہے کیسی کہ دلوں کی دھڑکنوں میں

    نہ حدیث لالہ و گل نہ حکایت چمن ہے

    نہیں مصلحت کہ رہبر کوئی بات سچ بتا دے

    ذرا کارواں سے پوچھو جو شکست جو تھکن ہے

    کئی انقلاب آئے کئی دیپ جھلملائے

    جو بجھی نہیں ہے اب تک تری یاد کی کرن ہے

    میں غموں کی تیرگی میں نہیں اس قدر بھی تنہا

    کوئی مجھ سے دور رہ کر مرے دل میں ضو فگن ہے

    نہیں سب کے ساتھ یکساں سفر حیات پیارے

    کہیں رنگ و بو کے سائے کہیں دشت پر محن ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY