نہ ہوگا حشر محشر میں بپا کیا

زیبا

نہ ہوگا حشر محشر میں بپا کیا

زیبا

MORE BYزیبا

    نہ ہوگا حشر محشر میں بپا کیا

    نہ ہوگا میرا ان کا فیصلہ کیا

    دغا دے گا مجھے وہ پر جفا کیا

    نہ آڑے آئے گی میری وفا کیا

    چمن میں کس لئے گل ہنس رہے ہیں

    شگوفہ تو نے چھوڑا اے صبا کیا

    چلو بگڑو نہ مہ کہنے پر اتنا

    بشر سے ہو نہیں جاتی خطا کیا

    انہیں ترک تعلق ہے جو منظور

    مجھے الزام دیتے ہیں وہ کیا کیا

    وہ کب کا بہہ گیا سب خون ہو کر

    لگائے گا کوئی دل کا پتا کیا

    کیا ہے وعدۂ فردا کسی نے

    نہ ہوگی اب قیامت بھی بپا کیا

    خدا کی بھی نہیں سنتے ہیں یہ بت

    بھلا میں کیا ہوں میری التجا کیا

    جفاؤں کے لئے کی تھیں وفائیں

    نتیجہ دوستی کا ہے دغا کیا

    انہیں کی سی یہ دل بھی کہہ رہا ہے

    مثال چشم جاناں پھر گیا کیا

    عجب انداز سے نکلا مرا دم

    ادائے یار تھی میری قضا کیا

    منانے سے نہیں منتا جو کوئی

    ہمارا دم خفا ہوتا ہے کیا کیا

    دئے دکھ بھی تو جی بھر کے نہ ہم کو

    فلک تو کیا ہے تیرا حوصلہ کیا

    دغا دی ہم کو دل لے کر ہمارا

    یہی جرم وفا کی تھی سزا کیا

    مجھے کیوں آج ہچکی آ رہی ہے

    کوئی یاد آئی اور ان کو جفا کیا

    کریں شکوہ نہ صاحب دہر کا بھی

    زمانے میں تمہیں ہو بے وفا کیا

    شب فرقت دغا دی ضبط نے بھی

    دلا سچ ہے کسی کا آسرا کیا

    وہ بے خود پا کے زیباؔ کو یہ بولے

    دل آیا آپ کا میرا گیا کیا

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY