نہ جاں بازوں کا مجمع تھا نہ مشتاقوں کا میلا تھا

شاد عظیم آبادی

نہ جاں بازوں کا مجمع تھا نہ مشتاقوں کا میلا تھا

شاد عظیم آبادی

MORE BYشاد عظیم آبادی

    نہ جاں بازوں کا مجمع تھا نہ مشتاقوں کا میلا تھا

    خدا جانے کہاں مرتا تھا میں جب تو اکیلا تھا

    گھروندا یوں کھڑا تو کر لیا ہے آرزوؤں کا

    تماشا ہے جو وہ کہہ دیں کہ میں اک کھیل کھیلا تھا

    بہت سستے چھٹے اے موت بازار محبت میں

    یہ سودا وہ ہے جس میں کیا کہیں کیا کیا جھمیلا تھا

    اگر تقدیر میں ہوتا تو اک دن پار بھی لگتا

    یہ دریا جھیلنے کو یوں تو اے دل خوب جھیلا تھا

    ہمیشہ حسرت دیدار پہ دل نے قناعت کی

    بڑے در کا مجاور تھا بڑے مرشد کا چیلا تھا

    کہاں دل اور فسون عشق کی گھاتیں کہاں یا رب

    نہ پڑتا تھا بلاؤں میں ابھی کم بخت انیلا تھا

    جہاں چاہے لگے جس دل کو چاہے چور کر ڈالے

    زباں سے پھینک مارا بات تھی ناصح کہ ڈھیلا تھا

    تماشا گاہ دنیا میں بتاؤں کیا امیدوں کی

    تن تنہا تھا میں اے شادؔ اور ریلوں پہ ریلا تھا

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    نہ جاں بازوں کا مجمع تھا نہ مشتاقوں کا میلا تھا فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY